AskImamDarul Iftaa Mahmudiyyah (AskImam)

Whats is the ruling regarding bursting firecrackers in Islam?

Fatwa 46687English
Jurisprudence and Rulings (Fiqh)

Question

Assalamualikum Warahmatullahi wabarkahtuh

Whats is the ruling regarding bursting crakers in islam?

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

In principle, fireworks are considered makrūh due to wastage of money and also due to the possibility of harming or damaging people or property. Consider the following ‘ayat:

Translation: Indeed, the wasteful are brothers of the devils, and ever has Satan been to his Lord ungrateful

Therefore, one should refrain from bursting fireworks.

However, if the fireworks are done in imitation of other religions or religious celebrations such as Diwālī and Christmas, then bursting fireworks will be harām.[i]

And Allah Ta’āla Knows Best

Ikraam Elias Gangat

Student Darul Iftaa
Zambia

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

2021-11-01

References (Arabic / Urdu sources)

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (الاسراء:27)

[i]

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 698 دار احياء التراث العربي)

ويكفر بخروجه إلى نيروز المجوس والموافقة معهم فيما يفعلونه في ذلك اليوم

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ط-أخرى (5/ 207 دار الكتب العلمية)

وبخروجه إلى نيروز المجوس والموافقة معهم فيما يفعلون في ذلك اليوم

الفتاوى الهندية (2/ 276 دار الفكر)

وبخروجه إلى نيروز المجوس لموافقته معهم فيما يفعلون في ذلك اليوم

دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

فتوی نمبر :143802200053

سوال : کیایومِ آزادی پر چراغاں کرنااورآتش بازی کرناجائزہے یانہیں ؟

نیزاس دن لوگ روڈوں پر نکل کرٹریفک جام کردیتے ہیں ،کیایہ عمل درست ہے؟

جواب : آزادی یقیناً ایک نعمت ہے، اور کسی نعمت کے حصول پر خوشی ومسرت کا اظہار کرنا شرعی حدود و قیود میں رہتے ہوئے جائزہے، مسلمانوں کے ہاں خوشی عاجزی اور بندگی کی صورت میں ادا کی جاتی ہے، جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے موقع پر انتہائی تواضع اختیار فرماکر اُمت کی تربیت فرمائی، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اور آپ نے انصارِ مدینہ کو جاہلی انداز میں تہوار مناتے دیکھا، تو اس کے متبادل خوشی کے دو دن مقرر فرمائے: عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر، جن میں خوشی منانے کا پاکیزہ انداز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو تعلیم فرمادیاہے۔ جب کہ آتش بازی ، چراغاں اور دیگر واہیات کے ذریعے جشن منانا دیگر اقوام کا طریقہ ہے ۔ مذکورہ دونوں معیاروں کو سامنے رکھ کر عاجزی وبندگی کے ساتھ اسلامی حدود میں رہتے ہوئے خوشی کا اظہار کرنا درست ہوگا، اور غیروں کے طریقے کے مطابق آتش بازی اور چراغاں کرکے جشن مناناشرعاً درست نہیں ہوگا، آتش بازی جانی ومالی نقصان اور اسراف جیسے کئی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بھی ناجائز ہے۔ نیز جشن کے نام پر ٹریفک جام کرنا شرعاً درست نہیں ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

Answered by
Ikraam Elias Gangat
Checked & approved by
Mufti Ebrahim Desai
View original Ask AskImam directly

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa Mahmudiyyah (AskImam). It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.