DU ZakariyyaDarul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya

نانی کا دودھ پینے سے خالہ کی لڑکی سے ثبوتِ رضاعت کا حکم:

Fatwa Vol 4 #206Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب الرضاع

Question

ایک بچہ نے اپنی نانی کا دودھ پیا، اب وہ اپنی خالہ کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ خالہ کی لڑکی سے نکاح نہیں ہو سکتا، کیوں کہ نانی اس کی رضاعی ماں بن گئی، اور خالہ اس کی رضاعی بہن بن گئی، اور خالہ کی لڑکی اس کی رضاعی بھانجی بن گئی۔
حدیث شریف میں ہے:

قال النبي ﷺ: "يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب". (رواه البخاري).

ان اصول کے لئے ایک شعر مشہور ہے:
از جانب شیر دہ ہمہ خویش ـ شوند واز جانب شیرخوار زوجان و فروع
یعنی دودھ پلانے والی کی طرف سے سب رشتہ دار اور محارم بن گئے، یعنی مرضعہ ماں بن گئی، اس کا شوہر باپ بن گیا، مرضعہ کی بہن خالہ بن گئی، مرضعہ کے بیٹے بیٹیاں بھائی بہن بن گئے۔ اور دودھ پینے والے کی طرف سے قرابت زوجین اور اولاد تک محدود ہو گی یعنی اگر بچہ مذکر ہے تو اس کی بیوی مرضعہ کے شوہر پر حرام ہے، اور اگر دودھ پینے والی بچی ہے تو اس کا شوہر مرضعہ پر حرام ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.