DU ZakariyyaDarul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya

حق شفعہ سے دستبرداری کے عوض مال حاصل کرنے کا حکم:

Fatwa Vol 9 #447Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

زید نے خالد سے زمین خریدی زمین کے پڑوس میں عبداللہ ہے اس نے کہا میں شفعہ کا حقدار ہوں، اگر آپ مجھے دو لاکھ روپے دے دیں تو میں شفعہ چھوڑ دوں گا ورنہ شفعہ کا دعوی کر دوں گا، کیا زید عبداللہ کو ترکِ شفعہ کی وجہ سے دو لاکھ دے سکتا ہے یا نہیں؟ اگر ناجائز ہو تو کیا اس کے جواز کی کوئی تدبیر ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ حق شفعہ کے عوض مال حاصل کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا زید کا عبداللہ کو دو لاکھ روپے دینا صحیح نہیں ہے، اگر دے دے تب بھی واجب الرد ہے، اور حق شفعہ بھی باطل ہو جائے گا، ہاں جواز کی یہ تدبیر ہو سکتی ہے کہ شفیع مشتری سے کہہ دے کہ آپ مجھے مکان مشفوع کا آدھا حصہ یا مخصوص کمرہ یا مخصوص جگہ جس کی قیمت دو لاکھ ہے ڈیڑھ لاکھ میں دے دے اور مشتری اس پر راضی ہو جائے اور شفیع شفعہ چھوڑ دے تو اس طرح شفیع کو ۵۰ ہزار کا فائدہ حاصل ہوگا اور شفیع شفعہ کا حق رکھتے ہوے شفعہ چھوڑ دے گا ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں مرقوم ہے:

وإن صالح من شفعته علي عوض بطلت شفعته ورد العوض لأن حق الشفعة ليس بحق متقرر في المحل بل هو مجرد حق التملك فلا يصح الاعتياض عنه. (الهداية: ٤/ ٤۰٦، ط: شركة علمية).
وقال في البحر الرائق: وبالصلح عن شفعته علي عوض وعليه رده، يعني تبطل الشفعة إذا صالح المشتري الشفيع علي عوض وعلي الشفيع رد العوض. (تكملة البحر الرائق: ۸/۱٦۸). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۱۸٤).

عنایہ شرح ہدایہ میں لکھا ہے:

إن الصلح إذا كان على بعض الدار صح ولم تبطل الشفعة، لأن ذلك على وجهين: أحدهما أن يصالحه على أخذ نصف الدار بنصف الثمن وفيه الصلح جائز لفقد الإعراض، والثاني أن يصالحه على أخذ بيت بعينه من الدار بحصته من الثمن والصلح فيه لا يجوز لأن حصته مجهولة وله الشفعة لفقد الإعراض. (العناية شرح الهداية: ۹/٤۱٤، ط: دار الفكر).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.