بذریعہ بینک سونے کی تجارت کا حکم:
Question
ہم بذریعہ بینک سونے کی تجارت کرتے ہیں؛ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب سونے کی قیمت کم ہوتی ہے تو ہم بینک کے واسطہ سے سونا خریدتے ہیں، اور جب قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو بیچ دیتے ہیں، لیکن خریدنے کے بعد نہ ہم سونے سے کوئی انتفاع حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہم اس کو بینک سے نکلوا سکتے ہیں، بس فقط آگے اس کو بیچ سکتے ہیں، خریدنے کے بعد ہمارے اکاؤنٹ میں فقط اتنا دکھایا جاتا ہے کہ آپ اتنی مقدار سونے کے مالک ہے، باقی ہمارے خیال میں سونا بینک کے پاس بھی نہیں ہوتا، کیا ہمارے لیے ایسا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ ایسا معاملہ جائز اور درست نہیں ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ معاملہ بیع قبل القبض میں شامل ہے جو حدیث شریف سے ممنوع ہے، کیوں کہ جب آپ بینک سے سونا خریدتے ہیں تو بینک کے پاس سونا نہیں ہوتا فقط اتنی مقدار کو آپ کے اکاؤنٹ میں ظاہر کیا جاتا ہے پھر آپ اس کو آگے بیچتے ہیں جب کہ حقیقت میں سونا آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں ہوا لہٰذا ایسا عقد جائز نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن حكيم بن حزام رضي الله عنه قال: يا رسول الله يأتيني الرجل فيريد مني البيع ليس عندي أفأبتاعه له من السوق؟ فقال: لا تبع ما ليس عندك. (سنن أبي داود: والترمذي، رقم: ۱۲۳۲، وابن ماجه، رقم: ۲۱۸۷).
دوسری حدیث شریف میں ہے:
عن نافع عن ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ، قال: من ابتاع طعاماً فلا يبعه حتى يستوفيه. (صحيح مسلم: ۲/۵، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، وصحيح البخاري، رقم: ۲۱۳٦).
قال في الهداية: ومن اشتري شيئاً مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه، لأنه نهى عن بيع مالم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك. (الهداية: ۳/۷٤).
جدید فقہی مباحث میں مرقوم ہے:
بیع قبل القبض کی ممانعت متعدد احادیث میں وارد ہوئی ہے، ائمہ مجتہدین نے ان احادیث کو معلول بہ علت قرار دیا ہے، اگر علت پائی جائے گی تو ممانعت کا حکم باقی رہے گا ورنہ نہیں، ائمہ مجتہدین کے کلام میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قبل القبض بیع کی ممانعت کی تین علتیں ہیں: ۱ ۔ غرر، ۲ ۔ ربح ما لم یضمن، ۳ ۔ احتمال ربا النسیۂ ۔ (جدید فقہی مباحث: ۱۵/۱٤۱) ۔
(مزید ملاحظہ ہو : اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۸۱، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/۱۱٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.