DU ZakariyyaDarul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya

ٹائم شیئرز کی تجارت کا حکم:

Fatwa Vol 9 #453Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

ٹائم شیئرز کا مطلب یہ ہے کہ لوگ تعطیلات گزارنے کے لیے ایک دو ہفتہ کے لیے ہوٹل یا کمرے کرایہ پر لیتے ہیں، تو کیا اس کی تجارت کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ یعنی ایک سے خرید کر دوسرے کو بیچنا جب کہ مکمل قبضہ نہیں ہوتا تو کیا نفع پر بیچنا جائز ہوگا یا نہیں؟

Answer

اگر کوئی شخص ہوٹل کو کرایہ پر لے کر دوسرے کو دینا چاہے تو اس کے قبضہ کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی طرف سے کسی کو اپنا قائم مقام کر دے وہ ہوٹل کی چابیاں لے کر قبضہ کر لے گا اور آنے والوں کو کرایہ پر دیگا ۔
نیز اگر کمروں کو نفع کے ساتھ کرایہ پر دینا ہو تو کمروں میں کچھ تصرف کر لے مثلاً ٹیبل کرسیاں لگا دیں یا حمام میں صابون وغیرہ رکھ دے یا ہوٹل والوں سے ڈالر پر معاملہ کیا جائے اور کرایہ داروں سے رینڈ پر کر لیا جائے تب بھی زائد نفع لینا درست ہوگا ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں مذکور ہے:

(وله السكني بنفسه إسكان غيره بإجارة وغيرها) وكذا كل ما لا يختلف بالمستعمل يبطل التقييد لأنه غير مفيد، بخلاف ما يختلف، ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئاً. وفي الشامية: قوله بخلاف الجنس، أي جنس ما استأجر به وكذا إذا آجر مع ما استأجر شيئاً من ماله يجوز أن تعقد عليه الإجارة فإنه تطيب له الزيادة كما في الخلاصة، قوله أو أصلح فيها شيئاً، بأن جصصها أو فعل فيها مسناة وكذا كل عمل قائم لأن الزيادة بمقابلة ما زاد من عنده حملاً لا مره على الصلاح كما في المبسوط. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۲۹، باب ما يجوز من الإجارة).

فتاوی عالمگیری میں ہے:

وإذا استأجر داراً وقبضها ثم آجرها فإنه يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائز ة أيضاً إلا أنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة ولو زاد في الدار زيادة كما لو وتد فيها وتداً أو حفر فيها بئراً أو طيناً أو أصلح أبوابها أو شيئاً من حوائطها طابت له الزيادة. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۲۵، الباب السابع في إجارة المستأجر).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
جتنی رقم کسی جگہ بھی کرایہ مکان کی آپ ادا کریں اتنی رقم پر دوسرے کو دے سکتے ہیں، اگر اس سے زیادہ رقم لیں گے تو اس کا صدقہ کر دینا ہوگا ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
اگر اس شخص نے اس جائیداد میں کوئی تصرف نہیں کیا تب تو یہ منافع ناجائز ہے اس کا تصدق واجب ہے اگر اس جائیداد کی کوئی اصلاح کی یا مرمت کی ہے اور پھر دوسرے شخص کو دی ہے تو یہ منافع جائز ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/٦۰٤، ٦۰۵ جامعہ فاروقیہ) ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
شرعاً اس کا حکم یہ ہے کہ یہ معاملہ جائز ہے، بشرطیکہ اپنے موجر کے ساتھ نہ ہو اور اجرتِ اولی سے کم پر ہو اور اگر اجرتِ اولی سے زیادہ کے ساتھ ہو تو زائد رقم حلال نہ ہو گی اس کا تصدق واجب ہوگا ۔
الا یہ کہ دوسرا عقد پہلے عقد کے خلاف جنس سے ہو، یا یہ کہ کرایہ دار اس میں کوئی مرمت و اصلاح کرے، مثلاً اگر مکان ہو تو اس کی مرمت، رنگ روغن وغیرہ کرے، اگر زمین ہو تو اس کی نالی وغیرہ درست کرے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۲۱٦) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (کفایت المفتی: ۷/۳۳۱، کتاب المعاش، دار الاشاعت) ۔
بظاہر اس کا مدار عرف پر ہے پہلے زمانہ میں اس کا عرف نہیں تھا آج کل اس کا عرف ہے لہٰذا بلاشرط زیادہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ جیسے اجیر، اجیر الاجیر سے زائد وصول کر سکتا ہے اگر زید عمرو کو ایک کپڑا سینے کے لیے دے ایک درہم کے عوض، اور عمرو بکر کو دو درہم کے عوض دے دے تو یہ صحیح ہے ۔ اسی طرح اگر رب المال مضارب کو نصف ربح پر دے اور مضارب، مضارب المضارب کو کل نفع کے ثلث پر دے دے تو یہ جائز ہے، مثلاً: مضاربت میں کل نفع چھ لاکھ ہو تو ۳ لاکھ رب المال کے، ۲ لاکھ مضارب المضارب کے اور ۱، لاکھ مضارب کے ہوں گے، اسی طرح صورتِ مسئولہ میں موجر مستاجر کو ۷۰ ہزار میں دے دے اور مستاجر آگے ایک لاکھ میں دے دے اور ۳۰ ہزار خود رکھ لے تو یہ جائز ہونا چاہیے، لیکن اُس زمانہ میں اس کا عرف نہیں تھا ۔ مضاربت کی دلیل ملاحظہ کیجیے:

قال في الهداية: فإذا دفع رب المال مضاربة بالنصف وأذن له بأن يدفعه إلى غيره فدفعه بالثلث وقد تصرف الثاني وربح، فإن كان رب المال قال له علي أن ما رزق الله فهو بيننا نصفان فلرب المال النصف وللمضارب الثاني الثلث وللمضارب الأول السدس لأن الدفع إلى الثاني مضاربة قد صح لوجود الأمر به من جهة المالك ورب المال شرط لنفسه نصف جميع ما رزق الله تعالى فلم يبق للأول إلا النصف فينصرف تصرفه إلى نصيبه وقد جعل من ذلك بقدر ثلث الجميع للثاني فيكون له فلم يبق إلا السدس ويطيب لهما ذلك لأن فعل الثاني واقع للأول كمن استوجر على خياطة ثوب درهم فاستأجر غيره عليه بنصف درهم. (الهداية: ۳/۲٦٤).

نیز درر الحکام میں اس میں زائد پر نہ دینے کی قید نہیں ۔ عبارت ملاحظہ ہو :

للمستأجر أي جاز له أن يؤجر الأجير من غير موجره ولا يجوز أن يؤجره لمؤجره لأن الإجارة تمليك المنفعة والمستأجر في حق المنفعة قائم مقام المؤجر فيلزم تمليك المالك ويعير ويودع فيما لا يختلف الناس في الانتفاع به، لأنه لما ملك منافعه جاز له أن يملكها لكن لا فيما يختلف الناس في الانتفاع بها وإلا كان متعدياً. (درر الحكام في شرح غرر الأحكام: ۲/۲٤۱، مسائل شتي).

عطر ہدایہ میں کرایہ کی چیز کو اجرت پر دینے یا عاریت پر دینے کے بارے میں مطلقاً جواز مرقوم ہے، زائد پر دینے کے لیے کوئی شرط مرقوم نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو : کرایہ پر لی ہوئی چیز کو آگے کرایہ پر یا عاریت کے طور پر دینا درجِ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے ۔ پھر چند شرائط مذکور ہیں لیکن زائد دینے کے لیے کوئی شرط مرقوم نہیں ہے ۔ (عطر ہدایہ، ص ۲۷۰، ط: زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.