اپنے کھاتا میں دوسرے کی رقم رکھنے کی اجرت لینے کا حکم:
Question
ایک آدمی نے کسی شخص کو ۲ لاکھ روپے دئیے اور کہا کہ یہ روپے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کر دو، اور یہ بھی بتا دیا کہ جمع کرنے اور اکاؤنٹ استعمال کرنے کی وجہ سے تم کو ۵۰ ہزار روپے بطورِ اجرت ملیں گے، پھر آہستہ آہستہ اکاؤنٹ سے روپے نکال کر مجھے دیتے جانا، کیا ایسا معاملہ درست ہے یا نہیں؟
Answer
بعض ممالک میں عارضی مشکل حالات کی وجہ سے اپنے اکاؤنٹ میں زیادہ روپے نہیں رکھ سکتے ہیں ورنہ ضبط ہو جائیں گے اور شرمندگی الگ ہو گی، اس لیے کسی اور کے اکاؤنٹ میں اپنی رقم رکھوانی ہو گی اور وہ شخص رقم کی حفاظت کے عوض ۵۰ ہزار وصول کرے گا پھر آہستہ آہستہ نکال کر اس کے حوالہ کر دے گا، یہ اجارہ کی شکل ہے شرعاً اس کی اجازت ہے، پھر یہ بات بھی یاد رہے کہ اکاؤنٹ میں رقم جمع کرنا اور نکالنا ایک مشکل کام ہے، اس میں کافی محنت کرنی پڑتی ہے، لائن میں کھڑا رہنا ہوگا، چنانچہ عقد کے وقت رقم کی حفاظت، اکاؤنٹ استعمال کرنا اور جمع کرنے نکالنے کی محنت وغیرہ کا بھی تذکرہ کر لیا جائے، ان سب کے عوض ۵۰ ہزار لینا جائز اور درست ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
المودِع إذا شرط الأجرة للمودَع على حفظ الوديعة صح ولزم عليه كذا في جواهر الأخلاطي. (الفتاوى الهندية: ٤/۳٤۲).
فقہاء نے اجارہ کی تعریف درجِ ذیل الفاظ میں فرمائی ہے ۔ ملاحظہ ہو القدوری میں ہے:
الإجارة عقد على المنافع بعوض ولا يصح حتى تكون المنافع معلومة والأجرة معلومة، لأن الجهالة في المعقود عليه وبدله يفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمبيع. (القدوري مع الجوهرة:). (وكذا في المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله : ۱۵/۱۳۵، ط: بيروت).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.