DU ZakariyyaDarul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya

گولف ٹورنمنٹ میں کامیاب ہونے پر انعام حاصل کرنے کا حکم:

Fatwa Vol 9 #460Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

گولف ٹورنمنٹ میں میری پوزیشن آئی اور مجھے انعام ملا، میرا خیال ہے کہ انہوں نے اینٹرنس (داخلہ) فیس سے انعام خریدا تھا، کیا میرے لیے انعام لینا درست ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ عام طور پر داخلہ فیس کے بدلہ میں کچھ کھانے پینے اور کھیلنے کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں، اور انعام ابتدائی تبرع ہوتا ہے، لہٰذا انعام حاصل کرنا جائز اور درست ہوگا ۔
دلائل اور حوالہ جات ترتیب وار درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:

قال في البحر الرائق: والمسابقة بالفرس والإبل والأرجل والرمي جائز ة، لقوله: لا سبق إلا في خف أو نعل أو حافر وأذن رسول الله ﷺ لسلمة بن الأكوع أن يسابق رجلاً كان لا يسابق أبداً فسبقه سلمة بن الأكوع وقال الزهري: كانت المسابقة بين أصحاب رسول الله ﷺ بالخيل والركاب والأرجل ولأن الغزاة يحتاجون إلى رياضة خيلهم وأنفسهم، وحرم شرط الجعل من الجانبين لا من أحد الجانبين

ولو قال واحد من الناس لجماعة من الفرسان أو للاثنين فمن سبق فله كذا من مال نفسه أو قال للرماة من أصحاب الهدف فله كذا جاز لأنه من باب التنفيل فإذا كان للتنفيل من بيت المال كالسلب ونحوه يجوز فما ظنك بخالص ماله. (تكملة البحر الرائق: ۸/۵۵۵، مسائل شتي، ط: دار المعرفة).
وقال في البدائع: وكذلك ما يفعله السلاطين وهو أن يقول السلطان لرجلين من سبق منكما فله كذا فهو جائز لما بينا أن ذلك من باب التحريض على استعداد أسباب الجهاد خصوصاً من السلطان فكانت ملحقة بأسباب الجهاد. (بدائع الصنائع: ٦/۲۰٦، سعيد).
(وكذا في فتاوى الشامي: ٦/٤۰۳، سعيد، والفتاوى الهندية: ٦/٤٤۵، وتبيين الحقائق: ٦/۲۲۷، ط: إمداديه).

امداد الاحکام میں مذکور ہے:
سوال: مدارس میں فیس داخلہ اور فیس ماہواری طلبہ سے لینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز ہے کیوں کہ یہ اجرت نہیں بلکہ چندہ ہے اور چندہ میں شرط جائز ہے کیوں کہ اس سے جبر لازم نہیں آتا جس کو شرط منظور نہ ہو گی اس کو عدمِ داخلہ کا اختیار ہوگا ۔

ودليله أنه عليه السلام قال لمن أضافه وعائشة رضي الله تعالى عنها، قال: لا، قال: فلا إذن، قال في الثالثة وعائشة رضي الله تعالى عنها قال: نعم
۔ (امداد الاحکام: ۳/٦۰٦، ط: قدیم) ۔
حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص آنحضور ﷺ کی دعوت کرنا چاہتا تھا، آنحضور ﷺ نے ان ہاں جانے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے جانے کی شرط رکھی جس کو تیسری مرتبہ میزبان نے قبول کر لیا، رسول اللہ ﷺ کا تشریف لے جانا تبرع تھا جس کو حضرت عائشہ رضی الله عنه کے جانے کے ساتھ مشروط فرمایا ۔
(امداد الاحکام حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله کی نگرانی میں تحریر شدہ حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله کے فتاوی کا مجموعہ ہے ۔
" ماہنامہ" البلاغ "جمادی الاولی ۱٤۳۲؁ ھ میں حضرت مولانا مفتی عبد الشکور ترمذی صاحب رحمه الله کا ایک مضمون شائع ہوا ہے اس میں حضرت نے فرمایا: حقیقت میں یہ امداد الاحکام حضرت تھانوی رحمه الله کے امداد الفتاوی کا تتمہ ہے ۔ البلاغ، ص ٤۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.