DU ZakariyyaDarul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya

سینما میں ملازمت کرنے اور تنخواہ لینے کا حکم:

Fatwa Vol 9 #463Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

کیا سینما میں ملازمت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یعنی سینما شروع ہونے سے پہلے اسکرین ٹھیک کرنا یا اسپیکر وغیرہ سیٹ کرنا اور اندر کے دیگر کاموں میں معاونت کرنا وغیرہ ۔ کیا ایسی ملازمت جائز ہو گی؟ اور اس پر ملنے والی تنخواہ حلال ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

صاحبین رحمه الله کے نزدیک ہر ایسی ملازمت جس میں معصیت اور گناہ کے کاموں پر تعاون ملتا ہو جائز اور درست نہیں ہے، بنا بریں اس قسم کی ملازمت سے اجتناب لازم اور ضروری ہے اور تنخواہ بھی مکروہ ہو گی ۔ ملاحظہ ہو قرآنِ کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَي الإِثْمِ وَالعُدْوَانِ﴾
لہٰذا ایسی ملازمتوں سے بچنا چاہیے اور کوئی ایسا آمدنی کا ذریعہ اختیار کیا جائے جس میں کسی قسم کی حرمت یا کراہت کا شائبہ نہ ہو ۔
در مختار میں ہے: (
و) جاز تعمير كنيسة وحمل خمر ذمي بنفسه ودابته بأجر. لا عصرها لقيام المعصية بعينه

وقالا: لا ينبغي ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية، وبه قالت الثلاثة. زيلعي. وفي حاشية ابن عابدين: قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به؛ لأنه لا معصية في عين العمل. قوله (وحمل خمر لذمي) قال الزيلعي: وهذا عنده، وقالا: هو مكروه

وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين: ٦/۳۹۱).

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

قوله: (وجاز تعمير كنيسة) أي بالترميم لا بالإعادة بعد الهدم، وظاهره جوازه وأنهم لو استأمروا الإمام أمهم وأنه يجوز للمسلم أن يؤجر نفسه لذلك. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱۹٦).

البحر الرائق میں ہے:
وعلى هذا الخلاف إذا آجر دابة ليحمل عليها الخمر أو نفسه ليرعي له الخنازير فإنه لطيب له الأجرة عنده، وعندهما يكره. وفي التتارخانية: ولو أجر المسلم نفسه لذمي ليعمل في الكنيسة فلا بأس. (البحر الرائق: ۱۷/۲٤۱، بيروت).

محیط برہانی میں ہے:
ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيس ويعمرها فلا بأس به؛ إذا ليس في نفس العمل معصية. (المحيط البرهاني: ۵/۳٦۲).

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
ولو استأجر الذمي مسلماً ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۵۰)،
(وكذا في فتاوى قاضي خان على هامش الهندية: ۲/۳۲٤، والفتاوى البزازية على هامش الهندية: ۵/۱۲۵، وجواهر الفقه: ۲/٤۵۳، مسألة الإعانة على الحرام. وإمداد الفتاوى: ٤/۳۲۲).

فتاوی دار العلوم زکریا میں ہے: فقہائے احناف کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے، حضرات صاحبین رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس میں تعاون علی المعصیۃ پایا جاتا ہے؛ اس لیے ایسی مزدوری سے بچنا چاہیے، جب کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کے کام میں کوئی معصیت نہیں؛ لہذا جائز ہے ۔ تاہم نہ کرنے میں احتیاط کا پہلو ہے، ہاں اگر کسی نے ایسی مزدوری قبول کر لی تو اجرت ناجائز اور حرام نہیں ہو گی ۔ (زکریا: ۵/٦۲٦، ٦۳۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.