معاوضہ دے کر ترجمہ کرانے پر ترجمہ کے حقوق کا حکم:
Question
زید نے عمرو سے کہا کہ آپ ہمارے لیے چند کتابوں کا ترجمہ کریں، اس کے عوض آپ کو ہم رقم ادا کریں گے، یعنی ترجمہ کرنے کی اجرت دیں گے ۔ عمرو تیار ہو گیا اور اجرت پر ترجمہ کیا اور زید نے اس کا معاوضہ ادا کر دیا ۔ اب زید نے مطالبہ کیا کہ تمام ترجموں کی کاپیاں ہمیں دے دیں اور اس کی فائلیں اپنے کمپیوٹر سے ختم کر دیں ۔ لیکن عمرو کہتا ہے کہ میں ایسا نہیں کر سکتا ؛ اس لیے کہ قرآن حدیث کے ترجموں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ کیا زید کا مطالبہ صحیح ہے اور عمرو انکار کر سکتا ہے یا نہیں؟ بینوا بالدلیل ۔
Answer
جب عمرو نے اپنا کام ختم کر لیا اور پیسے بھی وصول کر لیے تو اجارہ ختم ہو گیا ۔ اب وہ ترجمہ جو عمرو نے کیا وہ زید کا حق بن گیا، اور حقوق مال کی طرح ہیں ۔ لہٰذا عمرو کے لیے اس کاپی کو رکھنا اور اس سے استفادہ کرنا، نیز اس کو آگے بیچنا یہ سب جائز نہیں ہوگا؛ اس میں زید کا نقصان ہے ۔ اور زید کا یہ شرط لگانا اور یہ مطالبہ کرنا کہ وہ فائلیں ختم کر لیں، صحیح اور درست ہے ۔
حضرت مولانا خالد سیف اللہ فرماتے ہیں کہ مال ہونے کے لیے تین بنیادی عناصر ہیں:
(۱) اول یہ کہ وہ شرعاً مباح ہو ۔ (۲) دوسرا یہ کہ وہ شئ قابل انتفاع ہو ۔ (۳) تیسرا عنصر یہ ہے کہ عرف میں جس شئ کی خرید و فروخت مروج ہو جائے، وہ مال ہے ۔ اور یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ فقہ کے چاروں دبستان اس پر متفق ہیں ۔ (جدید فقہی مسائل: ٤/۱۷۱) ۔
مولانا عمر عابدین قاسمی لکھتے ہیں:
پس اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ: (۱) جمہور کے نزدیک مال کے علاوہ منافع اور حقوق کی بھی خرید و فروخت ہو سکتی ہے ۔ (۲) اگر بیع کے لیے مال ہونا ہی ضروری ہو تو فقہاء کی عبارتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خود مال میں حقوق و منافع بھی شامل ہیں، یہ نہ صرف ائمہ ثلاثہ کا مسلک ہے، بلکہ حنفیہ کے یہاں بھی اس کی نظیریں موجود ہیں ۔ (۳) کسی شئ کے مال ہونے کے لیے عرف و رواج کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ (٤) قابلِ ادخار ہونے کی کوئی ایک ہی صورت متعین نہیں، کسی چیز کا قانونی طور پر محفوظ ہو جانا بھی قابل ادخار ہونے کے لیے کافی ہے ۔ (حقوق اور ان کی خرید و فروخت: ص ۱٤۱) ۔
فتاوی دار العلوم زکریا میں ہے:
سوال: حق تصنیف پر معاوضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ ناشر یا مطبع کسی موضوع پر کام کا پروجکٹ تیار کرے اور اس کے لیے اسکالرز کی خدمات حاصل کرے، نیز ان کا کوئی معاوضہ طے کر دیا جائے، جو اس تصنیف و تالیف، ترتیب و تحقیق یا کسی علمی کام کے بدلے دیا جائے، یہ طریقہ زیادہ تر بین الاقوامی شہرت یا فتہ مطابع اور ناشرین کے درمیان مروج ہے ۔
الجواب: حق تصنیف پر معاوضہ لینا جائز ہے ۔ سوال میں ذکر کردہ صورتوں میں سے پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ اس کے جواز میں کوئی کلام نہیں ہے، اس کا حکم وہی ہے جو امامت اور درس و تدریس کے معاوضہ کا ہے ۔ نیز تصنیف ناشر یا مطبع کی ملکیت ہو گی؛ کیوں کہ اس نے اس عمل کی اجرت ادا کی ۔ (فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/۳۲۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.