DU ZakariyyaDarul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya

لمبی مدت ملازمت کرنے پر قانونی بونس لینے کا حکم:

Fatwa Vol 9 #465Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

ایک آدمی کسی کمپنی میں تقریباً ۳۵ سال سے کام کرتا تھا اب وہ اس کمپنی سے کام چھوڑنا چاہتا ہے اور حکومت کا قانون یہ ہے کہ پرانا ملازم کام چھوڑنا چاہے تو اس کو کچھ بونس دینا ضروری ہے اگر نہ دے تو وہ بذریعہ کورٹ مقدمہ چلا کر وصول کر سکتا ہے، اب یہ شخص پوچھنا چاہتا ہے کہ کیا شرعی اعتبار سے یہ بونس ملازم کا حق ہے یا نہیں؟ یعنی کوئی مسلمان مالک کہے کہ میں نہیں دینا چاہتا تو اس کو کورٹ میں جانا چاہیے یا نہیں؟

Answer

جب حکومت کی طرف سے بونس کا دینا حکومت کا قانون ہے اور اس کو جانبین نے قبول بھی کیا ہے تو بونس ملازم کا حق بنتا ہے اور اپنے حق کو وصول کرنے کے لئے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہو تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے ۔ بخاری شریف میں ہے:

حدثنا أبو نعيم حدثنا سفيان عن هشام عن عروة عن عائشة رضي الله عنه ا قالت هند أم معاوية لرسول الله ﷺ إنّ أبا سفيان رجل شحيح فهل علي جناح أن آخذ من ماله سراً قال خذي أنت وبنوك ما يكفيك بالمعروف.
(صحیح البخاری، رقم ۲۲۱۱) ۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ انسان کو اپنا حق وصول کرنے کے لئے اگر قاضی یا بادشاہ کے پاس فریاد لے کر جانا پڑ ے تو اس کی بھی اجازت ہے، حضرت ہندہ رضی اللہ عنہا اپنا حق وصول کرنے کے لئے حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں گئی تھیں، آپ ﷺ امیر المؤمنین تھے، آپ نے ان کا مقدمہ سن کر فرمایا"
خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف ".

شرحِ بخاری لابن بطال میں ہے:

إن هنداً قالت: يا رسول الله، إن أبا سفيان رجل شحيح وليس يعطيني ما يكفيني وولدي إلا ما أخذت منه وهو يعلم فقال: (خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف) في هذا الحديث من الفقه: أنه يجوز للإنسان أن يأخذ من مال من منعه من حقه أو ظلمه بقدر ماله عنده ولا إثم عليه في ذلك لأن النبي ﷺ أجاز لهند ما أخذت من مال زوجها بالمعروف وأصل هذا الحديث في التنزيل في قوله تعالي: (وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به) [النحل].
(شرح صحیح البخاری: ۷/ ۵٤۲، مکتبۃ الرشد، ریاض) ۔
سنن ابن ما جہ میں ہے:

حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي حدثنا وهب بن سعيد بن عطية السلمي حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن أسلم عن أبيه عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله ﷺ أعطوا الأجير أجره قبل أن يجفّ عرقه.
(سنن ابن ماجہ، رقم ۲٤۳٤) ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:

ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة بشرط التعجيل أو بإستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها كذا في شرط الطحاوي. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۱۳).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
اور نفقہ بقدر حالہا یعنی بین بین شوہر کے ذمہ لازم ہے اس کو وہ بذریعہ عدالت بھی لے سکتی ہے اور عورت کی طرف سے یہ چار ہ جوئی کہ یا شوہر نان و نفقہ ادا کرے ورنہ طلاق دے دے موافق حکم شریعت ہے اس میں اس پر کچھ گناہ نہیں ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند کبیر ج ۹ص ۲۷٦ دار الاشاعت) ۔
کتاب النوازل میں ہے: اگر کوئی ہمارا نقصان کرے تو بدلہ لینا کیسا ہے؟
جواب: نقصان کی شکل میں بذات خود بدلہ لینے کی بجائے قانونی طور پر بذریعہ عدالت بدلہ لینے کی کوشش کر نی چاہیے ۔
قال الله تعالي: فمن اعتدي عليكم فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدي عليكم (البقرة: ۱۹٤) وقال سبحانه تعالي: ولا تلقو بأيديكم إلى التهلكة وأحسنوا إن الله يحب المحسنين الله تعالي: فمن اعتدي عليكم فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدي عليكم (البقرة: ۱۹٤) وقال سبحانه تعالي: ولا تلقو بأيديكم إلى التهلكة وأحسنوا إن الله يحب المحسنين. (البقرة: ۱۹۵).
(کتاب النوازل ج ۱۷ ص ۵۰۷، ط: المرکز العلمی مراد آباد) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.