جائیداد نام پر کرانے کی فیس سودی رقم سے ادا کرنے کا حکم:
Question
جب کوئی شخص جائیداد خریدتا ہے تو جائیداد کو اپنے نام کرانے کی فیس" ساؤتھ افریقن ریوینیو سروس "کو ادا کرنا ہوتا ہے ۔ کیا جائیداد منتقل کرنے کی فیس سودی رقم سے ادا کی جا سکتی ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
سود ی رقم کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ اصل مالک کوواپس کی جائے جب مالک معلوم ہو اور اگر مالک کا علم نہ ہو اور پتا لگانا بھی دشوار یا نا ممکن ہو تو اس کی طرف سے فقراء و مساکین پر صدقہ کر دی جائے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں درجِ ذیل دو وجوہات کی بنا پر سودی رقم فیس میں ادا کرنا جائز ادا کرنا جائز نہیں:
(۱) عام طور پر جنوبی افریقہ کے بینک حکومتی اور سرکاری نہیں ہیں، بلکہ پرائیویٹ اور خانگی ہوتے ہیں، تو ایک بینک سے رقم لے کر دوسرے بینک میں نہیں دے سکتے ۔ (۲) سودی رقم سے کسی قسم کا فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں ہے، اور صورتِ مسئولہ میں جائیداد نام پر کرانے کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے، لہٰذا یہ ناجائز ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجود رده عليه. (باب البيع الفاسد: سعيد).
معارف السنن میں ہے:
قال شيخنا: ويستفاد من كتب فقهائنا كالهداية وغيرها أن من ملك بملك خبيث ولم يمكنه الرد إلى المالك فسبيله التصدق على الفقراء. قال: ومثله يقول ابن القيم في" بدائع الفوائد "
قال: والظاهر أن المتصدق بمثله ينبغي أن ينوي به فراغ ذمته، ولا يرجو به المثوبة. (معارف السنن: ۱/۳٤، ۳۵، سعيد).
بذل المجہود میں ہے:
وأما إذا كان عند رجل مال خبيث، فأما إذا ملكه بعقد فاسد أو حصل له بغير عقد ولا يمكنه أن يرد إلى مالكه ويريد أن يدفع مظلمته فليس له حيلة إلا أن يدفع إلى الفقراء. (بذل المجهود: ۱/۳۷).
مزید ملاحظہ فرمائیں: (نظام الفتاوی: ۱/۱۸۵، و کتاب الفتاوی: ۵/۳۱۸، ۳۱۹، و جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/ ۱٦۳، و جدید فقہی مسائل: ۱/۲۵۲، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/٤۱۰، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/٤۱۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.