DU ZakariyyaDarul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya

امارات لوٹو (Emirates lotto) سے انعام حاصل کرنے کا حکم:

Fatwa Vol 9 #468Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

کیا امارات لوٹو (Emirates lotto) میں حصہ لینا اور اس سے انعام حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ امارات لوٹو کا طریقہ کار یہ ہے کہ امارات والے کچھ مخصوص کارڈ بنا کر ۳۵ درہم میں فروخت کرتے ہیں، جو خریدتا ہے وہ لوٹو میں حصہ دار بن سکتا ہے، پھر ٤۹ نمبرات میں سے ٦ نمبر متعین کرنے ہوں گے، پھر ٤۹ گینڈ جس پر ٤۹ نمبرات مرقوم ہوتے ہیں لوٹو مشین (Lotto machine) میں گھماتے ہیں اور چھ نمبر نکالتے ہیں پس جس کے نمبر چھ کے بالکل موافق ہو گئے، اس کو بڑا انعام (jackpot) ملتا ہے، اگر کسی کے پانچ نمبر موافق ہوے تو وہ دوسرے نمبر کا انعام حاصل کرتا ہے، اگر ٤ نمبر موافق ہوے تو تین سو درہم ملتے ہیں، اور اگر تین موافق ہوے تو اگلے کھیل میں مفت داخلہ ملتا ہے، کارڈ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ملک بھرکی ۱۹۰۰۰ جگہوں سے کہیں سے بھی خرید سکتے ہیں، اور کارڈ کے خریدنے پر لوٹو میں حصہ دار بن سکتا ہے ورنہ نہیں؟ اب شرعی نقطہ نظر سے اس لوٹو کا کیا حکم ہوگا؟ برائے مہربانی مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہو ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ کارڈ بنا کر فروخت کرنا لاٹری کو عروج دینے کی وجہ سے ہے، تاکہ انعام کی لالچ میں زیادہ سے زیادہ لوگ شرکت کریں، پھر کارڈ خریدنے والا بھی انعام کی غرض سے کارڈ خریدتا ہے، اور ایک جانب تو رقم کی ادائیگی یقینی ہوئی اور دوسری جانب مشکوک ہے، اس کو بنگاہِ شریعت قمار کہا جاتا ہے، جو کہ نص قطعی سے حرام اور ناجائز ہے، لہٰذا اس سے بالکل اجتناب کرنا لازم اور ضروری ہے ۔
ملاحظہ ہو قرآنِ کریم میں ہے:

قال الله تعالى: ﴿إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه، لعلكم تفلحون﴾ [المائدة: ۹۰]،
قال في تفسير السعدي: وأما الميسر فهو كل المغالبات التي يكون فيها عوض من الطرفين. (ص ۹۸، ط: الرسالة).
وأخرج الإمام أحمد في مسنده عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه، قال: قال رسول الله ﷺ: إن الله حرم على أمتي الخمر والميسر. (مسند أحمد، رقم: ٦۵٤۷).
قال في قواعد الفقه: القمار: مصدر قامر، هو كل لعب يشترط فيه غالباً أن يأخذ الغالب شيئاً من المغلوب وأصله أن يأخذ الواحد من صاحبه شيئاً فشيئاً في اللعب ثم عرفوه بأنه تعليق الملك على الخطر والمال في الجانبين. (قواعد الفقه، ص ٤۳٤).
وقال في تبيين الحقائق: وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والانتقاص في كل واحد منهما فصار قماراً. (تبيين الحقائق: ٦/۲۲۷، إمداديه).

مفتی تقی صاحب فرماتے ہیں:
غرر کی ایک صورت جس کو فقہاء کرام نے تعلیق الملک علی الخطر، سے تعبیر فرمایا ہے کہ عقود معاوضہ میں تملیک کوکسی خطرہ پر معلق کرنا اسی کا ایک شعبہ قمار ہے، قمار یعنی جوا یا میسر اس میں ایک طرف سے تو ادائیگی یقینی ہو اور دوسری طرف سے ادائیگی موہوم ہو تو جتنی بھی لاٹریاں ہمارے زمانے میں مشہور ہیں یہ قمار ہے، تعلیق الملک علی الخطر، ہے اور غرر کا ایک شعبہ ہے جو حرام ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۷٦، ادارۂ اسلامیات) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ پنجم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.