آئی ڈی کارڈ استعمال کرنے کی اجرت لینے کا حکم:
Question
کیا دوسرے کے آئی ڈی کارڈ پر اپنے لیے گاڑیاں منگا کراس کو آئی کارڈ کی اجرت دینا جائز ہے یا نہیں؟ نیز لینے والے کے لیے اس اجرت کا لینا حلال ہوگا یا نہیں؟
Answer
عام طور پر ایسے معاملہ کی دو صورتیں ہوتی ہیں: ۱ ۔ کسی کے شناختی کارڈ کو اپنا شناختی کارڈ بتا کر کوئی چیز حاصل کرنا، یہ صورت ناجائز ہے، اس میں دھوکادہی ہے ۔
۲ ۔ خریدار شناختی کارڈ کے مالک کو وکیل بالشراء بنا دے کہ آپ میرے لیے گاڑی خرید لے میں آپ کو اتنی رقم ادا کر دوں گا، تو یہ صورت جائز ہے، اور وکیل بالشراء کا اجرت مقرر کر کے لینا جائز اور درست ہے ۔
اسلام میں دھوکادہی ممنوع اور ناجائز ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ مر علي صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللاً، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام، قال: أصابته السماء يا رسول الله! قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني. (رواه مسلم، رقم: ۱۰۲).
دستور العلماء میں مذکور ہے:
الوكالة
وفي الشرع تفويض التصرف في أمر شرعي إلى غيره أي إقامة الغير مقام نفسه في التصرف ممن يملك التصرف، والوكيل: هو الذي فوض إليه التصرف بإقامة المفوض أي الموكل إياه مقام نفسه في التصرفات. (دستور العلماء: ۳/۳۲۱).
وفي التعريفات الفقهية: والوكالة، وهي شرعاً تفويض أحد أمره لا خر وإقامته مقامه ويقال لذلك الشخص موكل ولمن أقامه وكيل والأمر موكل به. (التعريفات الفقهية، ص ۵٤٦).
وفي التعريفات الفقهية: والوكالة، وهي شرعاً تفويض أحد أمره لا خر وإقامته مقامه ويقال لذلك الشخص موكل ولمن أقامه وكيل والأمر موكل به. (التعريفات الفقهية، ص ۵٤٦).
اسلامی فقہ میں مذکور ہے:
وکالت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک خاص ایک عام، خاص کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے کسی سے کہا کہ آپ اتنے روپے میں میرے لیے موٹر خرید دیجیے پھر ان دونوں کی دو قسمیں ہیں، ایک با اجرت دوسرے بے اجرت دونوں کے احکام یکساں ہیں ۔ (اسلامی فقہ: ۲/٦٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.