DU ZakariyyaDarul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya

پراپرٹی میں شراب کی دکان کے کرایہ کا حکم:

Fatwa Vol 9 #470Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

ایک شخص نے ایک پراپرٹی خریدی جس میں پہلے سے شراب کی دکان تھی، اب جب تک عقدِ اجارہ ختم نہیں ہوتا وہاں تک شراب بیچنے والے کو نکال نہیں سکتے، ہاں عقدِ اجارہ ختم ہونے کے بعد وہ نکل جائے گا، کیا اس دوران اس دکان کآ کرایہ وصول کرنا اور استعمال کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر شراب فروخت کرنے والا مسلمان ہے تو کرایہ مکروہ تحریمی اور واجب التصدق ہوگا، اور اگر غیر مسلم ہو تو مکروہِ تنزیہی ہوگا، استعمال کرنا مرخص ہے، البتہ تصدق افضل اور بہتر ہے ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں مرقوم ہے:

وإجارة بيت ليتخذ بيت نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه خمر بالسواد، يعني جاز إجارة البيت لكافر ليتخذ معبداً أو بيت نار للمجوس أو يباع فيه خمر في السواد وهذا قول الإمام، وقالا: يكره كل ذلك لقوله تعالى: وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان. (تكملة البحر: ۸/۲۳۰).

احسن الفتاوی میں مذکور ہے:
بندہ کے خیال میں اجارہ من الکافر اور اجارہ من المسلم میں فرق ہے، عباراتِ فقہاء رحمہم اللہ تعالی کافر سے متعلق ہیں اور اس میں درایۃً و روایۃً کراہتِ تنزیہیہ کو ترجیح معلوم ہوتی ہے اور اجارہ من المسلم میں کراہتِ تحریمیہ راجح معلوم ہوتی ہے، واللہ اعلم ۔ (احسن الفتاوی: ٦/٤۵٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.