ایمیزون ای بائی ویپ سائٹ پر تجارت کرنے کا حکم:
Question
آج کل انٹرنیٹ پر تجارت کی ایک خاص ویپ سائٹ ہے جس کو ایمیزون ای بائی ویب سائٹ کہتے ہیں، طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مشتری اس ویب سائٹ سے سامان خریدتا ہے، اور تیسرے آدمی کو بیچتا ہے، جب کہ سامان اس ویب سائٹ والوں کے پاس بھی نہیں ہوتا، آڈر ملنے کے بعد تیار کیا جاتا ہے، یعنی ایسا سامان جو قبضہ اور ملک میں نہیں، کیا ایسی تجارت جائز ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اس ویب سائٹ سے درجِ ذیل دو وجوہات کی بنا پر تجارت جائز نہیں ہے:
۱ ۔ مبیع کے معدوم ہونے کی وجہ سے، کیوں کہ بہت سی مرتبہ آڈر ملنے بعد مبیع تیار کی جاتی ہے ۔
۲ ۔ بیع قبل القبض ہونے کی وجہ سے یعنی کسی چیز کو اپنے قبضہ میں آنے سے پہلے فروخت کرنا ۔
ہاں اگر بائع مشتری کے ساتھ بیع سلم کا معاملہ کرے اور شرائطِ سلم موجود ہوں تو بیع صحیح ہو گی، پھر مشتری اول مشتری ثانی کے ساتھ وعدہ کرے تو یہ معاملہ صحیح ہوگا ۔
مذکورہ بالا معاملہ کی صحت کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بائع اول بھی مشتری اول کے ساتھ وعدہ کرے، اور سامان تیار ہو جائے پھر بیع کرے تو یہ معاملہ صحیح ہو جائے گا ۔ ملاحظہ ہو مسلم شریف کی روایت میں ہے:
عن ابن عمر رضي الله عنه، قال: كنا في زمان رسول الله ﷺ نبتاع الطعام، فيبعث علينا من يأمرنا بانتقاله من المكان الذي ابتعناه فيه، إلى مكان سواه، قبل أن نبيعه. (رواه مسلم: ۲/۵، باب بطلان البيع قبل القبض).
بیع معدوم کے متعلق علامہ ابو بکر کاسانی بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں:
وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع؛ منها: أن يكون موجوداً فلا ينعقد بيع المعدوم وماله خطر العدم كبيع نتاج النتاج بأن قال: بعت ولد ولد هذه الناقة وكذا بيع الحمل لأنه إن باع الولد فهو بيع المعدوم وإن باع الحمل فله خطر المعدوم وكذا بيع اللبن في الضرع لأنه له خطر لاحتمال انتفاخ الضرع. (بدائع الصنائع: ۵/۱۳۸، سعيد).
(وكذا في رد المحتار: ٤/۵۰۵، سعيد).
فقہی مقالات میں مرقوم ہے:
شرعی احکام کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ جس چیز کو فروخت کر رہے ہیں وہ
وجود میں آ چکی ہو، اور وہ چیز آپ کی ملکیت میں ہو، اور آپ کے قبضہ میں بھی ہو، البتہ چاہے اس پر حقیقی قبضہ ہویا حکمی و عرفی قبضہ ہو ۔ (فقہی مقالات: ۳/۷٦) ۔
بیع قبل القبض کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں: حدیث شریف میں ہے:
عن عبد الله بن دينار قال: سمعت ابن عمر رضي الله عنه يقول: قال النبي ﷺ: من ابتاع طعاماً فلا يبعه حتى يقبضه. (رواه البخاري، رقم: ۲۱۳۳).
وعن ابن عباس رضي الله عنه: أن النبي ﷺ قال: من ابتاع طعاماً فلا يبعه حتى يستوفيه، قال ابن عباس رضي الله عنه: وأحسب كل شيء مثله.
(رواه الترمذي، رقم: ۱۲۹۱، باب ما جاء في كراهية بيع الطعام حتى يستوفيه).
محقق ابن ہمام رحمه الله فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
خص الطعام بالنهي في حديث رواه مالك
قلنا: قد رواه ابن عباس رضي الله عنه أيضاً قال: وأحسب كل شيء مثل الطعام أخرجه عنه أئمة الكتب الستة وعضد قوله ما روي أبوداود عن ابن إسحاق إلى ابن عمر رضي الله عنه قال: ابتعت زيتاً في السوق، فلما استوجبته لقيني رجل فأعطاني فيه ربحاً حسناً فأردت أن أضرب علي يده فأخذ رجل من خلفي بذراعي فالتفت فإذا زيد بن ثابت رضي الله عنه فقال: لا تبعه حيث ابتعه حتى يحوزها التجار إلى رحالهم ورواه ابن حبان في صحيحه والحاكم في المستدرك وصححه وقال في التنقيح سنده جيد وقال ابن إسحاق صرح فيه بالتحديث وأخرج النسائي أيضاً في سننه الكبري عن يعلى بن حكيم عن يوسف بن ماهك عن عبد الله بن عصمة عن حكيم بن حزام قال: قلت: يا رسول الله إني رجل ابتاع هذه البيوع وأبيعها فيما يحل لي منها وما يحرم، قال: لا تبيعن شيئاً حتى تقبضه ورواه أحمد في مسنده وابن حبان وقال هذا الحديث مشهور
فالحق أن الحديث حجة
ثم علل الحديث لأن فيه غرر انفساخ العقد الأول علي اعتبار هلاك المبيع قبل القبض فتبين حينئذٍ أنه باع ملك الغير بغير إذنه وذلك مفسد للعقد وفي الصحاح أنه ﷺ نهي عن بيع الغرر والغرر ما طوي عنك علمه
(فتح القدير: ٦/۵۱۱، دار الفكر).
تکملہ فتح الملہم میں ہے:
إن العلة في النهي عن بيع المبيع قبل القبض هي أنه يستلزم ربح ما لم يضمن وإنما يضمن الإنسان ما يخاف فيه الهلاك وأما العقار فلا يخشى فيه ذلك إلا نادراً حتى لو كان العقار على شط البحر كان المبيع علواً لا يجوز بيعه قبل القبض. (تكملة فتح الملهم: ۱/۳۵۳).
مزید ملاحظہ ہو : (نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے، ص ۱۰٦، و احسن الفتاوی: ٦/۵۲۵) ۔
شرائطِ سلم کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (الہدایۃ: ۳/۹۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.