قرض خواہ کا مدیون کو نفع پر قرض دینے کا حکم:
Question
بعض ممالک مثلاً: جاپان، دینمارک وغیرہ کے بینکوں میں ایک طریقہ چلا تھا، اس کا خلاصہ اور ماحصل یہ ہے کہ جب عام بینکوں کی رقوم مرکزی بینک میں زیادہ جمع ہو جاتی ہیں تو مرکزی بینک کو اس کا کچھ فیصد مثلاً: 0.1% ادا کرنا ہوتا ہے، مثلاً: ۱۰ ملین پر ۱۰ ہزار اور یہ زیادہ رقم ہے، لہٰذا بینک والے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ قرض لینے پر ترغیب دیتے ہیں اور واپسی میں کم ادا کرنا ہوتا ادا کرنا ہوتا ہے، مثلاً: ایک ہزار قرض لیا ہو تو ۹۹۰ ادا کرنے ہیں ۱۰ رینڈ بینک معاف کر دیتا ہے ۔ کیا یہ طریقہ جائز ہے اور قرض لینے پر کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟ بینوا توجروا ۔
Answer
پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ سودی قرض بنگاہِ شریعت حرام اور ناجائز ہے، اور سودی قرض کا مطلب یہ ہے کہ قرض خواہ قرض دے کراس پر مدیون سے مزید وصول کرے، یعنی مال کی مشروط زیادتی جو کسی چیز کا عوض نہ ہو، لیکن صورتِ مسئولہ میں قرض خواہ مدیون کے قرض میں سے کچھ حصہ معاف کر رہا ہے یہ احسان ہے یعنی جو بھی بینک سے قرض لے گا اس کے قرض سے کچھ فیصد معاف کر دیا جائے گا، یہ تبرع، احسان اور صلح کے قبیل سے ہے اور یہ جائز ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں؛ فتاوی شامی میں ہے:
لأن الصلح عن بعض الدين أخذ لبعض حقه وإبراء عن الباقي. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۳۲۰، سعيد).
وفي تبيين الحقائق: باب الصلح في الدين؛ قال: الصلح عما استحق بعقد المداينة أخذ لبعض حقه وإسقاط للباقي لا معاوضة، هكذا ذكر في نسخ هذا المختصر بقوله عما استحق، وهذا سهو، لأنه إذا صالح عن الدين لا يكون جميع صورة استيفاء لبعض حقه وإسقاطاً للباقي، وإنما يكون كذلك إن لو وقع الصلح عن الدين علي بعض الدين ألا تري أنه لو وقع عن الدين بجنس آخر يحمل على المعاوضة والصواب أن يقال الصلح على ما استحق بعقد المداينة، الخ، فإنه يكون أصلاً جيداً لا يرد عليه نقض وهكذا ذكر القدوري، وكل في مختصر القدوري بقوله شيء وقع عليه الصلح وهو مستحق بعقد المداينة لم يحمل علي المعاوضة، وإنما يحمل على أنه استوفي بعض حقه وأسقط باقيه وذكر بعضهم أن الإحسان متي وجد من أحد الجانبين يكون تبرعاً. (تبيين الحقائق، مع حاشية الشلبي: ۵/٤۱، الكبرى الأميرية).
ہاں اگر معاملہ برعکس ہے یعنی قرض خواہ نے قرض پر نفع اپنے لیے مشروط کیا ہے تو یہ ربا ہے ۔ اور
"كل قرض جر نفعاً فهو ربا"
کے تحت داخل ہو کر حرام ہوگا ۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
قوله كل قرض جر نفعاً حرام، أي إذا كان مشروطاً كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطاً في القرض فعلي قول الكرخي لا بأس به. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۱٦٦، سعيد).
لیکن بلا وجہ قرض لینے سے اجتناب کرنا چاہیے کیوں کہ قرض کوئی اچھی چیز نہیں ہے، اللہ کے نبی ﷺ نے قرض کے بار سے پناہ مانگی ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن عروة بن الزبير، أن عائشة زوج النبي ﷺ أخبرته، أن النبي ﷺ كان يدعو في الصلاة: اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر، وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات، اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم، قالت: فقال له قائل: ما أكثر ما تستعيذ من المغرم يا رسول الله، فقال: إن الرجل إذا غرم حدث فكذب ووعد فأخلف. (رواه مسلم، رقم: ۵۸۹).
وفي سنن الترمذي: عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضي عنه، هذا حديث حسن وهو أصح من الأول. (رواه الترمذي، رقم: ۱۰۷۹).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.